منگل، 20 اکتوبر 2026ء9 جمادی الاول، 1448 ہجریھ4 کاتک 2083 بکرمی
پسرور

اپنا پسرور

pasrur.pk
شہرِ پسرور (Pasrur)ضلع سیالکوٹ
23°C صاف•لائیو اپڈیٹس
Everyday Physics
24 فروری 2023Unknown

پیالی میں طوفان (39) ۔ کرائسٹ چرچ کا زلزلہ

پیالی میں طوفان (39) ۔ کرائسٹ چرچ کا زلزلہ
مطالعہ کا وقت: تقریباً 3 منٹ (524 الفاظ)


کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ کا ایک پرسکون شہر ہے۔ ہزاروں سال سے درائے ایوون کی لائی ہوئی مٹی کی تہوں نے یہاں کی زمین بنائی ہے۔ یہ بہت چھوٹے ذرات پر مشتمل سیڈیمنٹ ہیں۔ یہ خوبصورت شہر ہے لیکن اس میں ایک پوشیدہ خطرہ ہے۔ اسی فزکس کا جس سے کیچپ بوتل سے نکل آتی ہے۔
بائیس فروری 2011 کو دوپہر 12 بج کر 51 منٹ پر، یہاں پر زلزلہ آیا۔ اس کا مرکز شہر کے مرکز سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور اس کی شدت 6.3 تھی۔
زلزلے نے لوگوں کو ہلا دیا اور عمارتوں کو توڑ دیا لیکن ایک اور چیز یہاں کی زمین کے ساتھ ہوئی۔ اس کی مٹی صرف اس وقت ٹھوس تھی جب تک کہ یہ ساکن تھی۔ جس طرح کیچپ کو زور سے ہلایا جائے تو یہ مائع بن جاتی ہے۔ یہاں پر بھی وہی ہوا۔
اس کی چھوٹی سطح پر تفصیلات میں کچھ فرق تھا۔ یہاں پر مالیکیول کی لمبی زنجیریں ٹوٹنے کے بجائے ریت کے ذرات کے درمیان پانی گھس آیا اور انہیں آپس میں جدا کر دیا جس کی وجہ سے یہ بہنے لگے لیکن مجموعی طور پر فزکس ایک ہی تھی۔ اگر اس کو زور سے ہلایا جائے تو یہاں کی ٹھوس زمین مائع کی طرح بہہ سکتی ہے۔  
گاڑی بھاری شے ہے۔ گریویٹی اس کو زمین کے ساتھ زور سے دھکیل کر رکھتی ہے۔ گاڑیاں زمین میں غرق نہیں جاتیں کیونکہ زمین اتنی مضبوط ہے کہ اس فورس کی مزاحمت کر سکے۔ لیکن کچھ دیر کے لئے یہ عمومی اصول ٹوٹ گیا۔ کئی ایس گاڑیاں تھیں جو ریتلی زمین پر کھڑی تھیں۔ یہ سخت ریت دہائیوں سے مضبوطی سے قائم تھی۔ جب زلزلے نے زمین کو ہلایا تو ریت کی تہوں کو ایک دوسرے کے اوپر ایک طرف سے دوسری طرف جلدی سے پھسلنا پڑا۔
اگر یہ آہستہ ہوا ہوتا تو گاڑیاں محفوظ رہتیں۔ لیکن یہ اس قدر تیز ہوا کہ ان کے درمیان پانی رینگ آیا اور ریت کے ذرات کو اتنا وقت نہیں ملا کہ یہ الگ سمتوں میں جانے کے بعد واپس اپنی جگہ پر سیٹل ہو جائیں۔ بجائے اس کے، کہ ریت دوسری ریت پر قائم رہتی، زمین اچانک ہی ریت اور پانی کا مکسچر بن گئی جس کا سٹرکچر برقرار نہیں رہا۔
ایسے مکسچر پر کھڑی گاڑیاں نیچے غرق ہونے لگیں۔   لیکن جسی طرح زلزلہ رکا تو ریت کے ذرات ایک سیکنڈ میں سیٹل ہو گئے۔ زمین ٹھوس ہو گئی۔ اس وقت تک گاڑیاں آدھی زمین میں دھنس چکی تھیں۔
اس عمل میں کرائسٹ چرچ میں بہت منقصان کیا۔ عمارتیں اس لئے گر گئیں کہ زمین ان کو سہار نہیں سکی تھی۔ گاڑیاں دھنس گئیں۔ اس عمل کو liquefaction کہا جاتا ہے اور زلزلے کے تیز جھٹکوں سے سیڈیمنٹ کے ہلائے جانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ دلدل میں جلدی جلدی حرکت کرنا اچھا آئیڈیا نہیں۔ اگر آپ لڑیں اور زور لگائیں گے تو دلدل مائع جیسے ہو جائے گی اور آپ اس میں ڈوب جائیں گے۔ حرکت آہستہ کریں گے تو پھر اس کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔
فرق وقت کا ہے۔ جب آپ ٹائم سکیل تبدیل کر دیں تو نتیجہ بدل جاتا ہے۔
(جاری ہے)

 


 

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات: