زمرہ: Militant movements
واپسی (قسط نمبر سات)
اگست 1987 میں سوویت طیارے ایس یو 25 کو پاکستانی سرحد کے قریب مار گرایا گیا۔ پائلٹ نے جہاز کو گرنے سے پہلے ہی چھوڑ دیا تھا۔ مقامی لوگوں نے پائلٹ کو پاکستان فوج کے حوالے کر دیا۔ روای...
اختتام کا آغاز (قسط نمبر چھ)
افغان جنگ میں سوویت ایلیٹ فورس کی آمد اور اٹیک ہیلی کاپٹرز کے آ جانے سے جنگ کا پانسہ بدل گیا تھا۔ مجاہدین کے پاس ان کا توڑ نہیں تھا۔ سوویت فوج کو کامیابی مل رہی تھیں۔ 26 ستمبر 19...
دہشت کا تھیٹر (قسط نمبر پانچ)
جدید دہشت گردی کا آغاز ٹیلی ویژن کی مقبولیت کے ساتھ ہی ہوا اور یہ محض اتفاق نہیں۔ اس کا پہلا واقعہ 22 جولائی 1968 میں روم سے تل ابیب جانے والی فلائٹ کے اغوا کو سمجھا جاتا ہے۔ یہ ف...
ہانڈی کی آنچ (قسط نمبر چار)
امریکہ نے اس جنگ میں پاکستان کی خدمات کی قیمت چالیس کروڑ ڈالر لگائی تھی جو “مونگ پھلی” کہہ کر رد کر دی گئی تھی۔ بات 3.2 ارب ڈالر کی امداد اور ایف 16 کی خریداری سمیت بھاری عسکری ساز...
پنج شیر کے پانچ سال (قسط نمبر تین)
احمد شاہ مسعود کے والد افغان فوج میں کرنل تھے۔ پنجشیر میں کم ہی لوگ پڑھنا لکھنا جانتے تھے لیکن ان کے والدین استثنا تھے۔ والد نے رسمی تعلیم حاصل کی تھی۔ والدہ نے خود لکھنا پڑھنا سیک...
تالاب میں طوفان (قسط نمبر دو)
ہندستان اور فارس میں گھرے ہوئے افغانستان کی جدید سیاسی تاریخ فارس کے طاقتور بادشاہ نادر شاہ کے قتل اور اس کے نتیجے میں احمد شاہ ابدالی کی 1747 میں قندھار میں قائم کردہ ریاست سے شرو...
ملاقات ۔ (قسط نمبر ایک)
ستمبر 1996 میں آریانا افغان ائیرلائن کی فلائٹ میں گیری شروئن کابل جا رہے تھے۔ چھبیس سال سے سی آئی اے میں کام کرنے والی شروئن اب اسلام آباد میں چیف آف سٹیشن تھے۔ فارسی اور دری ز...
اکھاڑے کے پہلوان
شام میں پچھلے آٹھ برس سے خانہ جنگی کا اکھاڑا سجا ہے۔ ایک مختصر تعارف اس کا کہ اس خانہ جنگی میں فریقین ہیں کون؟ کون لڑ کس سے رہا ہے تا کہ آپ کو اس لڑائی کے کرداروں میں سے اپنی پسن...
سولہ لڑکے اور شام کی خانہ جنگی
وارننگ: یہ کمزور دل افراد کے لئے نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا اور بڑے حادثات تو پکنے میں صدیاں لے جاتے ہیں۔ ان صدیوں کی کہانیوں کو سمجھنے کا کس کے پاس وقت ہے۔ شام می...
طوفان کے بعد (قسط نمبر چودہ)
مکہ کے محاصرے کے وقت بائیس سالہ نوجوان اسامہ بن لادن سعودی حکومت کے وفادار شہری تھے۔ ان کو نہ فوٹوگرافی سے مسئلہ تھا، نہ ٹی وی سے اور نہ ہی جھیمان کی امام مہدی والی آئیڈیولوجی سے ...
نئی جنگ (قسط نمبر تیرہ)
ہزاروں میل دور برف سے ڈھکے شہر ماسکو میں سوویت اہلکار مکہ میں ہونے والے واقعات کو خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔ ایک باکسر کی طرح جو حریف کی کمزوری پکڑ لے۔ امریکہ اور ایران کی بڑھتی کشیدگ...
سزا (قسط نمبر بارہ)
دو ہفتے کی جنگ میں خانہ کعبہ بڑی حد تک محفوظ رہا لیکن مسجد کے بہت سے حصے تباہ ہو گئے تھے۔ کئی مہینے اس کی مرمت میں لگے۔ تہہ خانے میں قابو کا علاقہ اس کے بعد کبھی بھی لوگوں کے لئے ن...










