مرکزی خبر پر جائیں
True

Pages

بریکنگ نیوز

latest

دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا ایک ایسا رہنما جسے تاریخ نے کم یاد رکھا

 دیوان بہادر ستیہ پرکاش سنگھا، معروف بہ نام ایس۔ پی۔ سنگھا، پسرور میں پیدا ہونے والے ماہرِ تعلیم، قانون دان، منتظم اور پارلیمانی رہنم...

 دیوان بہادر ستیہ پرکاش سنگھا، معروف بہ نام ایس۔ پی۔ سنگھا، پسرور میں پیدا ہونے والے ماہرِ تعلیم، قانون دان، منتظم اور پارلیمانی رہنما تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کی 1933ء کی سرکاری تاریخ کے مطابق وہ جنوری 1933ء میں پہلے کنٹرولر آف ایگزامینیشنز مقرر ہوئے۔ 21 مارچ 1946ء کو متحدہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے، 23 جون 1947ء کے فیصلہ کن اجلاس کی صدارت کی اور بعد از قیامِ پاکستان مغربی پنجاب اسمبلی کے پہلے اسپیکر رہے۔ یہ مضمون سرکاری اسمبلی ریکارڈ، پنجاب یونیورسٹی کی تاریخی کتاب، قبر کے اصل کتبے اور دستیاب تحقیقی مطالعات کی روشنی میں ان کی زندگی کا جائزہ پیش کرتا ہے۔

دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا

پسرور کی سرزمین سے اٹھنے والا ایک ایسا رہنما جسے تاریخ نے کم یاد رکھا

پنجاب کی زرخیز دھرتی پر واقع تاریخی شہر پسرور صدیوں سے علم، تجارت، تہذیب اور سیاسی شعور کا مرکز رہا ہے۔ اس شہر نے بے شمار ایسے افراد پیدا کیے جنہوں نے اپنے اپنے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں، مگر کچھ شخصیات ایسی بھی ہیں جن کی خدمات وقت کی گرد میں دب گئیں۔ ان میں ایک نام ایسا ہے جس کا ذکر قیامِ پاکستان کی تاریخ میں تو ملتا ہے، لیکن بدقسمتی سے آج بھی بہت سے پاکستانی اس شخصیت سے واقف نہیں۔

یہ شخصیت دیوان بہادر ستیہ پرکاش سنگھا (Dewan Bahadur Satya Prakash Singha) ہیں، جنہیں عام طور پر ایس۔ پی۔ سنگھا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
دیوان بہادر ستیہ پرکاش ایس پی سنگھا کی تاریخی تصویر

وہ ایک ماہرِ تعلیم، منتظم، قانون دان، سیاست دان اور متحدہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر تھے۔ ان کی زندگی کا سب سے اہم باب وہ تھا جب برصغیر کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا تھا۔ مگر اس تاریخی مرحلے تک پہنچنے سے پہلے ایک طویل سفر تھا، جس کی ابتدا پسرور کی گلیوں سے ہوئی۔

ایک تاریخی شہر میں ایک تاریخی شخصیت کی پیدائش

26 اپریل 1893ء کو ضلع سیالکوٹ کی تحصیل پسرور میں ایک مسیحی خاندان میں ایک بچے نے آنکھ کھولی، جس کا نام ستیہ پرکاش سنگھا رکھا گیا۔ اس زمانے میں پسرور برطانوی پنجاب کا ایک اہم قصبہ تھا۔ یہاں قدیم بازار، مذہبی مقامات، زرعی منڈیاں اور تعلیمی ادارے اس شہر کو اردگرد کے علاقوں سے ممتاز بناتے تھے۔

انیسویں صدی کے آخری برسوں میں پسرور کی شناخت صرف ایک تحصیل ہیڈکوارٹر کی نہیں تھی بلکہ یہ مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگوں کا مشترکہ شہر تھا۔ مسلمان، سکھ، ہندو اور مسیحی برادریاں ایک ہی بازار میں تجارت کرتی تھیں، ایک دوسرے کے تہواروں سے واقف تھیں اور روزمرہ زندگی میں باہمی تعلقات قائم رکھتی تھیں۔ اسی ماحول نے نوجوان ستیہ پرکاش کی شخصیت پر بھی گہرا اثر ڈالا۔

بچپن اور ابتدائی تعلیم

مقامی تاریخی روایات کے مطابق ایس۔ پی۔ سنگھا نے ابتدائی تعلیم پسرور میں حاصل کی۔ تاہم ان کے سکول، جماعتوں اور ابتدائی تعلیمی اسناد کا مکمل سرکاری ریکارڈ فی الحال دستیاب نہیں۔ اتنا ضرور واضح ہے کہ انہوں نے بعد میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ان کے نام کے ساتھ سرکاری ریکارڈ میں M.A. اور LL.B. کی اسناد درج ہیں۔

ان کی اعلیٰ تعلیمی قابلیت نے انہیں پنجاب یونیورسٹی جیسے بڑے علمی ادارے میں اہم انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے کا موقع دیا۔

اگرچہ اس دور کے تمام تعلیمی ریکارڈ آج دستیاب نہیں، لیکن مستند تاریخی ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور جلد ہی علمی حلقوں میں اپنی قابلیت منوا لی۔

علم سے وابستگی

اعلیٰ تعلیم کے بعد ایس۔ پی۔ سنگھا نے علمی و انتظامی میدان میں کام کیا۔ ان کے ذاتی افکار پر براہِ راست تحریری مواد محدود ہے، لیکن پنجاب یونیورسٹی میں ان کی طویل خدمات سے تعلیم اور ادارہ جاتی نظم سے ان کی وابستگی واضح ہوتی ہے۔

اسی سوچ نے انہیں پنجاب یونیورسٹی لاہور تک پہنچایا، جو اس زمانے میں برصغیر کے نمایاں علمی اداروں میں شمار ہوتی تھی۔ یونیورسٹی کی 1933ء میں شائع ہونے والی سرکاری تاریخ کے مطابق، جنوری 1933ء میں انہیں نو قائم شدہ عہدے کنٹرولر آف ایگزامینیشنز پر مقرر کیا گیا۔ اسی تاریخی کتاب کی جانشینی فہرست میں ان کا نام “S. P. Singha, M.A., LL.B.” کے طور پر درج ہے۔ بعد کے ریکارڈ اور ان کی قبر کے کتبے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں کنٹرولر اور رجسٹرار کی اعلیٰ انتظامی ذمہ داریاں انجام دیں۔

پنجاب یونیورسٹی میں خدمات

برطانوی دور میں کنٹرولر آف ایگزامینیشنز اور رجسٹرار جیسے عہدے یونیورسٹی کے امتحانات، نتائج، ریکارڈ اور انتظامی تسلسل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔


ایس پی سنگھا سے متعلق تاریخی تصویر یا دستاویز

ایس پی سنگھا سے متعلق تاریخی تصویر یا دستاویزایس پی سنگھا سے متعلق تاریخی تصویر یا دستاویز

شکل نمبر 1 — University Teaching and Administrative Staff, 1933: اصل مطبوعہ کیپشن کی ترتیب کے مطابق ایس۔ پی۔ سنگھا کھڑی ہوئی پہلی قطار (Standing, First Row) میں بائیں سے پانچویں شخصیت ہیں۔ یہ شناخت چہرے کے اندازے کے بجائے کتاب میں چھپی ہوئی ناموں کی ترتیب پر مبنی ہے۔

Standing (1st Row)
1 2 3 4 ⭐5⭐ 6 7 8 9 10
↑    
S. P. Singha    
ایس پی سنگھا سے متعلق تاریخی تصویر یا دستاویز
کنٹرولر آف ایگزامینیشنز کی حیثیت سے وہ یونیورسٹی کے امتحانی نظم، نتائج اور متعلقہ انتظامی ریکارڈ کی نگرانی کرنے والے اہم افسر تھے۔ دستیاب 1933ء کے ماخذ سے ان کی تقرری تو براہِ راست ثابت ہوتی ہے، تاہم امتحانی اصلاحات سے متعلق ہر مخصوص دعوے کے لیے مزید آرکائیوی دستاویزات درکار ہیں۔

دیوان بہادر کا اعزاز

برطانوی ہندوستان میں حکومت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو اعزازات سے نوازتی تھی۔ انہی اعزازات میں ایک اہم اعزاز "دیوان بہادر" بھی تھا۔

ایس۔ پی۔ سنگھا کے نام کے ساتھ سرکاری اسمبلی ریکارڈ میں “Diwan Bahadur” کا لقب درج ملتا ہے۔ دستیاب ثانوی تاریخی مواد اسے ان کی عوامی، تعلیمی اور انتظامی خدمات کے اعتراف سے منسوب کرتا ہے، تاہم اصل سند، گزٹ نوٹیفکیشن یا اعزاز عطا کیے جانے کا سرکاری خط ابھی عوامی طور پر دستیاب نہیں ہوا۔

سرکاری اسمبلی دستاویزات میں ان کا مکمل تعارف “Diwan Bahadur S. P. Singha, M.A., LL.B.” کے طور پر ملتا ہے، جو اس دور میں ان کے سرکاری اور پارلیمانی مقام کی واضح شہادت ہے۔

ایک نئے سفر کا آغاز

اگر ایس۔ پی۔ سنگھا صرف ایک کامیاب منتظم رہتے تو شاید ان کا نام صرف پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ تک محدود رہتا، لیکن قسمت نے ان کے لیے ایک مختلف کردار لکھ رکھا تھا۔

1940ء کی دہائی میں برصغیر کی سیاست تیزی سے بدل رہی تھی۔ آزادی کی تحریک اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی تھی، اور پنجاب اس جدوجہد کا مرکز بنتا جا رہا تھا۔

اسی دوران ایس۔ پی۔ سنگھا نے عوامی خدمت کے لیے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ انہیں شاید خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے چند برسوں میں وہ ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑے ہوں گے جہاں ان کے فیصلے اور ان کی آئینی ذمہ داری برصغیر کی تاریخ کے اہم ابواب میں شمار کی جائے گی۔

سیاست میں آمد، قائداعظم سے قربت اور تاریخ کا رخ بدلنے والا سفر

1940ء کی دہائی برصغیر کی تاریخ کا سب سے ہنگامہ خیز دور تھی۔ دوسری جنگِ عظیم اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی، برطانوی حکومت کمزور پڑ رہی تھی، اور ہندوستان کی آزادی اب صرف ایک مطالبہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر حقیقت بنتی جا رہی تھی۔

اسی دوران پنجاب کی سیاست بھی ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی تھی۔

پنجاب صرف ایک صوبہ نہیں تھا بلکہ برصغیر کی سیاست کا مرکز بن چکا تھا۔ یہاں مسلمانوں، سکھوں اور ہندوؤں کی بڑی آبادیاں موجود تھیں، اس لیے جو فیصلہ پنجاب کے بارے میں ہونا تھا، وہ پورے برصغیر کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والا تھا۔

اسی ماحول میں ایس۔ پی۔ سنگھا نے تعلیمی میدان سے نکل کر عملی سیاست میں قدم رکھا۔

ایک مختلف سوچ رکھنے والا مسیحی رہنما

اس زمانے میں ہندوستان کے زیادہ تر مسیحی رہنما آل انڈیا کانفرنس آف انڈین کرسچنز کے ساتھ وابستہ تھے، جو متحدہ ہندوستان کے حامی تھے۔ لیکن ایس۔ پی۔ سنگھا نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔

انہوں نے محسوس کیا کہ اگر برصغیر تقسیم ہوتا ہے تو پنجاب کے لاکھوں مسیحیوں کا مستقبل مسلم اکثریتی علاقوں سے جڑا ہوگا۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمان، جنہوں نے خود طویل عرصہ ایک اقلیت کی حیثیت سے زندگی گزاری ہے، وہ نئی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق کو بہتر انداز میں سمجھیں گے۔ یہی سوچ انہیں مسلم لیگ کے قریب لے آئی۔

ثانوی تاریخی تحقیقات کے مطابق 1940ء کی دہائی کے آغاز میں انہوں نے آل انڈیا کرسچین ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی اور اس  پلیٹ فارم سے مسلم لیگ کے ساتھ تعاون کی پالیسی اختیار کی۔ اس تنظیم کے قیام کی درست تاریخ اور ابتدائی کارروائیوں کے مکمل اصل ریکارڈ کے لیے مزید آرکائیوی تحقیق درکار ہے۔

جناح ہمارے رہنما ہیں

دیوان بہادر ایس پی سنگھا کی تاریخی تصویر یا دستاویز

بعد کی تاریخی تحریروں میں 1946ء کے ایک اجتماع سے ان کا یہ بیان منسوب کیا جاتا ہے:

"محمد علی جناح ہمارے رہنما ہیں۔"

یہ منسوب بیان اس دور میں مسلم لیگ اور مسیحی سیاسی قیادت کے ایک حصے کے درمیان تعاون کی علامت کے طور پر نقل کیا جاتا ہے۔

بعض روایات میں قائداعظم کی طرف یہ جواب بھی منسوب کیا جاتا ہے، تاہم اس مکالمے کا باضابطہ سرکاری متن دستیاب نہیں:

"ہم مسیحیوں کی قربانیوں اور تعاون کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔"

یہ منسوب مکالمہ بعد کی تحریروں میں مسلم لیگ اور مسیحی قیادت کے باہمی اعتماد کی علامت کے طور پر نقل کیا جاتا ہے۔

ثانوی تحقیقات کے مطابق جولائی 1947ء میں ایس۔ پی۔ سنگھا نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے پنجاب کی مسیحی برادری کا مؤقف پیش کیا اور سیالکوٹ، پسرور اور نارووال سمیت مسلم اکثریتی مغربی پنجاب سے وابستہ علاقوں کو پاکستان میں شامل رکھنے کی حمایت کی۔ 

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر

21 مارچ 1946ء کو ایس۔ پی۔ سنگھا متحدہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔

یہ کوئی معمولی عہدہ نہیں تھا۔

اس وقت پنجاب اسمبلی برصغیر کی طاقتور ترین قانون ساز اسمبلیوں میں شمار ہوتی تھی، اور اسپیکر کا منصب انتہائی غیر جانبداری، آئینی فہم اور انتظامی صلاحیت کا متقاضی تھا۔ ان کی تقرری اس بات کا ثبوت تھی کہ مختلف سیاسی جماعتیں بھی ان کی قانونی اور انتظامی قابلیت کو تسلیم کرتی تھیں۔

جون 1947ء — تاریخ کا فیصلہ کن لمحہ

جون 1947ء آتے آتے پورا پنجاب بے چینی کی لپیٹ میں تھا۔

بازاروں، گلیوں، عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں صرف ایک ہی سوال زیرِ بحث تھا:

"پنجاب کس کے ساتھ جائے گا؟"

اگر پنجاب پاکستان میں شامل ہوتا تو برصغیر کا نقشہ بدل جاتا، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو پاکستان کی جغرافیائی اور معاشی حیثیت یکسر مختلف ہو سکتی تھی۔

23 جون 1947ء کو لاہور میں پنجاب اسمبلی کا وہ تاریخی اجلاس منعقد ہوا جس کا انتظار پورا برصغیر کر رہا تھا۔

اسمبلی کے باہر کشیدگی تھی۔

سیاسی کارکنوں کے ہجوم تھے۔

ہر جماعت اپنے ارکان کو متحد رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

اس ماحول میں اسمبلی کی کارروائی کو آئینی انداز میں چلانا آسان کام نہیں تھا، لیکن اسپیکر ایس۔ پی۔ سنگھا نے انتہائی تحمل اور قانونی تقاضوں کے مطابق اجلاس کی صدارت کی۔

ایک جرات مندانہ فیصلہ

دیوان بہادر ایس پی سنگھا کی تاریخی تصویر یا دستاویز

اس تاریخی اجلاس کے دوران ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق، اسپیکر ہونے کے باوجود ایس۔ پی۔ سنگھا نے اپنی پارلیمانی زندگی میں پہلی مرتبہ ووٹنگ لابی میں جا کر خود ووٹ ڈالا، اور انہوں نے نئی دستور ساز اسمبلی، یعنی پاکستان کی دستور ساز اسمبلی، کے حق میں ووٹ دیا۔ اس واقعے کو متعدد مؤرخین نے ان کی سیاسی جرأت اور واضح مؤقف کی علامت قرار دیا ہے۔

اہم تاریخی وضاحت: عوامی سطح پر یہ فقرہ مشہور ہے کہ “پاکستان ایک ووٹ سے بنا”، لیکن سرکاری پارلیمانی ریکارڈ اس دعوے کو اس سادہ شکل میں ثابت نہیں کرتا۔ 23 جون 1947ء کا فیصلہ ایک مجموعی اسمبلی ووٹ اور وسیع آئینی عمل کا نتیجہ تھا۔ ایس۔ پی۔ سنگھا کا اپنا ووٹ اور بطور اسپیکر ان کا کردار اہم اور علامتی تھا، مگر قیامِ پاکستان کو صرف ایک ووٹ سے منسوب کرنا تاریخی پیچیدگی کو غیر ضروری طور پر محدود کر دیتا ہے۔

ایک رہنما کا نظریہ

بعد کی بعض تحریروں میں ان سے یہ مؤقف منسوب کیا جاتا ہے:

"برصغیر میں مسلمان خود ایک اقلیت رہے ہیں۔ جب وہ اپنی ریاست قائم کریں گے تو انہیں اقلیت ہونے کے دکھ یاد رہیں گے، اس لیے مجھے یقین ہے کہ وہ دوسری اقلیتوں کے ساتھ انصاف کریں گے۔"

چونکہ اس قول کا اصل انٹرویو یا ہم عصر اخباری حوالہ دستیاب نہیں، اس لیے اسے لفظ بہ لفظ ثابت شدہ بیان کے بجائے ان سے منسوب سیاسی مؤقف سمجھنا زیادہ محتاط طرزِ تحقیق ہے۔

پاکستان بن گیا، مگر ایک معمارِ پاکستان خاموشی سے منظر سے ہٹ گیا

14 اگست 1947ء

نصف شب کا وہ لمحہ آ پہنچا جس کا برصغیر کے کروڑوں لوگ برسوں سے انتظار کر رہے تھے۔

لاہور، کراچی، پشاور، راولپنڈی، سیالکوٹ اور پسرور سمیت نئے ملک کے شہروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ نئی ریاست ڈومینین آف پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھر چکی تھی؛ ملک کا آئینی نام بعد کے برسوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار پایا۔

مگر آزادی کی اس خوشی کے ساتھ ہی تقسیمِ ہند کی ہولناک خونریزی بھی شروع ہو چکی تھی۔

پنجاب جل رہا تھا۔

قافلے لٹ رہے تھے۔

صدیوں سے ساتھ رہنے والے خاندان ایک دوسرے سے جدا ہو رہے تھے۔

انہی دنوں ایس۔ پی۔ سنگھا بھی ایک نئے امتحان سے گزر رہے تھے۔


پاکستان کی پہلی پنجاب اسمبلی

پاکستان بننے کے بعد مغربی پنجاب (West Punjab) کی نئی اسمبلی قائم ہوئی۔

ایس۔ پی۔ سنگھا کو ان کی آئینی مہارت، انتظامی تجربے اور غیر جانبدارانہ کردار کی وجہ سے مغربی پنجاب اسمبلی کا پہلا اسپیکر منتخب کیا گیا۔

یہ ایک تاریخی اعزاز تھا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک مسیحی پاکستانی، نئی ریاست کے سب سے اہم آئینی عہدوں میں سے ایک پر فائز تھا۔

یہ اس دور کے پاکستان کی ایک اہم علامت بھی تھی کہ نئی ریاست میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو اعلیٰ ذمہ داریاں دی جا رہی تھیں۔


قائداعظم کا اقلیتوں کے بارے میں وژن

11 اگست 1947ء کو قائداعظم محمد علی جناح نے دستور ساز اسمبلی میں اپنی تاریخی تقریر کی۔

اس تقریر میں انہوں نے واضح طور پر کہا:

"آپ آزاد ہیں۔ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں یا پاکستان میں کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔"

اگرچہ اس تقریر میں ایس۔ پی۔ سنگھا کا نام نہیں لیا گیا، لیکن بہت سے مؤرخین کے نزدیک ان جیسے غیر مسلم رہنماؤں کی موجودگی اس وژن کی عملی مثال تھی کہ پاکستان میں اقلیتیں بھی ریاستی نظام کا حصہ ہوں گی۔


بدلتے ہوئے سیاسی حالات

آزادی کے بعد پاکستان کو بے شمار مسائل کا سامنا تھا۔

لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری،

سرکاری دفاتر کی منتقلی،

مالی بحران،

اور سرحدی کشیدگی...

ہر طرف غیر معمولی حالات تھے۔

ان حالات میں سیاسی اختلافات بھی بڑھنے لگے۔

اسمبلی کے اندر مختلف جماعتوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی اور اسپیکر کی حیثیت سے ایس۔ پی۔ سنگھا کو کئی مشکل فیصلے کرنا پڑے۔

کچھ اراکین ان کی غیر جانبداری کو سراہتے تھے، جبکہ بعض ان سے اختلاف بھی رکھتے تھے۔


عدم اعتماد کی تحریک

1948ء کے آغاز میں اسمبلی کے اندر سیاسی اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی۔

یہ پاکستان کی ابتدائی پارلیمانی تاریخ کے پہلے بڑے آئینی واقعات میں شمار ہوتا ہے۔

سرکاری اسمبلی تاریخ اور بعد کی تحقیقات کے مطابق تحریک کامیاب ہوئی اور ایس۔ پی۔ سنگھا کو اسپیکر کے منصب سے الگ ہونا پڑا۔ اس واقعے کے محرکات کی تعبیر مختلف تحریروں میں مختلف ملتی ہے، اس لیے اسے صرف مذہبی تعصب یا صرف پارلیمانی اختلاف کی ایک ہی وجہ سے منسوب کرنا محتاط تاریخی طریقہ نہیں ہوگا۔

یہ ان کی سیاسی زندگی کا شاید سب سے کٹھن لمحہ تھا۔

جس شخص نے برصغیر کے حساس ترین آئینی دور میں اسمبلی کی قیادت کی تھی، وہ آزادی کے صرف چند ماہ بعد اپنے عہدے سے محروم ہو گیا۔


خاموشی اختیار کرنے والا رہنما

عہدہ چھوڑنے کے بعد ان کی سرگرمیوں کے بارے میں دستیاب ریکارڈ محدود ہے۔ کسی بڑے عوامی احتجاج یا طویل سیاسی مہم کا واضح ثبوت سامنے نہیں آتا؛ اس لیے اس دور کو ان کی زندگی کا نسبتاً خاموش مرحلہ کہا جا سکتا ہے۔

جہاں اصل دستاویزات محدود ہوں، وہاں ان کی خاموشی کے اسباب کے بارے میں قیاس آرائی کے بجائے دستیاب ریکارڈ تک محدود رہنا زیادہ درست ہے۔


کیا انہیں اپنی حمایت پر افسوس ہوا؟

یہ سوال کئی مرتبہ اٹھایا گیا کہ کیا پاکستان بننے کے بعد انہیں اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہوا؟

دستیاب مستند تاریخی ریکارڈ میں ایسا کوئی بیان موجود نہیں ملتا جس میں انہوں نے پاکستان کی حمایت پر افسوس کا اظہار کیا ہو۔

ایک محقق کے لیے یہی مؤقف درست ہے کہ جہاں ریکارڈ خاموش ہو، وہاں قیاس آرائی نہیں کرنی چاہیے۔


ایک بھولی ہوئی شخصیت

22 اکتوبر 1949ء کو دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی قبر لاہور کے تاریخی گورا قبرستان، جسے جیل روڈ کرسچین قبرستان بھی کہا جاتا ہے، میں موجود ہے۔ قبر کے کتبے پر ان کی پیدائش 26 اپریل 1893ء اور وفات 22 اکتوبر 1949ء درج ہے۔
دیوان بہادر ایس پی سنگھا کی تاریخی تصویر یا دستاویز

کیا پاکستان نے انہیں یاد رکھا؟

کئی دہائیوں تک ایس۔ پی۔ سنگھا کا نام قومی سطح پر بہت کم لیا گیا۔

نہ ان پر زیادہ کتابیں لکھیں گئیں،

نہ نصابی کتب میں انہیں مناسب جگہ ملی،

اور نہ ہی نئی نسل ان کے کردار سے زیادہ واقف ہو سکی۔

تاہم بعد کے برسوں میں پاکستانی مؤرخین نے ان کی خدمات پر دوبارہ تحقیق شروع کی، اور 2016ء میں حکومتِ پاکستان نے ان کی یاد میں پاکستان پوسٹ کے ذریعے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔

دیوان بہادر ایس پی سنگھا کی تاریخی تصویر یا دستاویز

یہ اعتراف اس بات کی علامت تھا کہ قیامِ پاکستان کی تاریخ صرف ایک طبقے یا ایک مذہب کی نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کی مشترکہ جدوجہد کی داستان ہے جنہوں نے اس نئی ریاست کے قیام میں کردار ادا کیا۔

افسوس کی بات ہے کہ پاکستان، پنجاب اور ان کے آبائی شہر پسرور میں نئی نسل کا ایک بڑا حصہ ان کے کردار سے پوری طرح واقف نہیں۔ ان کی یاد محفوظ رکھنے کے لیے پسرور یا لاہور میں کسی سڑک، تعلیمی عمارت، لائبریری یا عوامی مقام کو ان کے نام سے منسوب کرنے کیسخت ضرورت ہے۔ پنجاب اسمبلی کے سرکاری مباحث میں بعد کے عرصے میں Mrs. S. P. Singha کا نام ایک رکن کے طور پر درج ملتا ہے؛ تاہم ان کا ذاتی نام، انتخابی حلقہ اور خاندانی تفصیلات کے لیے مزید بنیادی تحقیق درکار ہے۔

ثانوی تاریخی روایات کے مطابق 1958ء میں ان کا خاندان پاکستان چھوڑ کر بھارت منتقل ہوگیا۔ بعض تحریری روایات خاندان کی بعد کی رہائش کولکتہ بتاتی ہیں، لیکن اس بارے میں قابلِ تصدیق تازہ خاندانی یا سرکاری ریکارڈ ابھی دستیاب نہیں۔

زندگی کا مختصر زمانی خاکہ

سال/تاریخواقعہ
26 اپریل 1893ءپسرور، ضلع سیالکوٹ میں پیدائش؛ تاریخ قبر کے کتبے پر درج ہے۔
جنوری 1933ءپنجاب یونیورسٹی کی سرکاری تاریخ کے مطابق پہلے کنٹرولر آف ایگزامینیشنز مقرر ہوئے۔
1933ءپنجاب یونیورسٹی کے تدریسی و انتظامی عملے کی تاریخی گروپ تصویر میں شامل ہوئے۔
21 مارچ 1946ءمتحدہ پنجاب قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔
23 جون 1947ءپنجاب اسمبلی کے فیصلہ کن اجلاس کی صدارت کی اور نئی دستور ساز اسمبلی کے حق میں ووٹ دیا۔
1947ءقیامِ پاکستان کے بعد مغربی پنجاب قانون ساز اسمبلی کے پہلے اسپیکر رہے۔
1948ءعدم اعتماد کی تحریک کے بعد اسپیکر کے منصب سے الگ ہوئے۔
22 اکتوبر 1949ءوفات؛ تدفین جیل روڈ کرسچین/گورا قبرستان لاہور میں ہوئی۔
26 اپریل 2016ءپاکستان پوسٹ نے ان کی یاد میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔

اہم سوالات

دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا کون تھے؟

وہ پسرور میں پیدا ہونے والے ماہرِ تعلیم، قانون دان، پنجاب یونیورسٹی کے منتظم، متحدہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور مغربی پنجاب اسمبلی کے پہلے اسپیکر تھے۔

کیا ایس۔ پی۔ سنگھا پنجاب یونیورسٹی کے کنٹرولر آف ایگزامینیشنز تھے؟

جی ہاں۔ پنجاب یونیورسٹی کی 1933ء میں شائع ہونے والی سرکاری تاریخ میں جنوری 1933ء کے تحت انہیں پہلے کنٹرولر آف ایگزامینیشنز کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

کیا پاکستان صرف ایس۔ پی۔ سنگھا کے ایک ووٹ سے بنا؟

نہیں، یہ مقبول مگر حد سے زیادہ سادہ کیا ہوا بیان ہے۔ ایس۔ پی۔ سنگھا کا ووٹ اور کردار اہم تھا، لیکن فیصلہ مجموعی اسمبلی ووٹنگ اور وسیع آئینی عمل کے نتیجے میں ہوا۔

ایس۔ پی۔ سنگھا کی قبر کہاں ہے؟

ان کی قبر لاہور کے جیل روڈ کرسچین قبرستان، معروف بہ گورا قبرستان، میں موجود ہے۔

کیا حکومتِ پاکستان نے انہیں سرکاری طور پر خراجِ تحسین پیش کیا؟

جی ہاں۔ پاکستان پوسٹ نے 26 اپریل 2016ء کو ان کے نام سے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔

اہلِ پسرور اور متعلقہ حکام سے اپیل: دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا کی تعلیمی، انتظامی اور پارلیمانی خدمات کو محفوظ کرنے کے لیے پسرور کی کسی اہم سڑک، لائبریری، تعلیمی عمارت، چوک یا یادگار کو ان کے نام سے منسوب کیا جانا چاہیے۔ یہ اقدام کسی ایک برادری نہیں بلکہ پسرور اور پاکستان کی مشترکہ تاریخ کے احترام کی علامت ہوگا۔
تحقیقی معیار

یہ مضمون بنیادی اور ثانوی ماخذ میں واضح فرق رکھتا ہے۔ سرکاری اسمبلی ریکارڈ، پنجاب یونیورسٹی کی تاریخی اشاعت، پاکستان پوسٹ اور قبر کے اصل کتبے سے ثابت معلومات کو قطعی انداز میں پیش کیا گیا ہے؛ جبکہ منسوب مکالموں، خاندانی تفصیلات، ابتدائی تعلیم اور باؤنڈری کمیشن سے متعلق وہ امور جن کے مکمل اصل کاغذات دستیاب نہیں، انہیں روایت یا مزید تحقیق کے محتاج بیان کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔


حوالہ جات اور بنیادی ماخذ

  1. J. F. Bruce, A History of the University of the Panjab, Lahore, 1933. See “The Latest Phase, 1920–1932,” Appendix V: Succession Lists, and the plate “University Teaching and Administrative Staff, 1933.” University of the Punjab digital copy.
  2. Provincial Assembly of the Punjab, Punjab Legislative Assembly Debates, 1946. The official list identifies “The Hon’ble Diwan Bahadur S. P. Singha, M.A., LL.B.” as Speaker. Official PDF.
  3. Provincial Assembly of the Punjab, The Punjab Parliamentarians. Contains the record of his election as Speaker on 21 March 1946 and the Assembly session of 23 June 1947. Official PDF.
  4. Provincial Assembly of the Punjab, West Punjab Legislative Assembly Debates, 1948. Lists “Singha, S. P., Dewan Bahadur, M.A., LL.B.” among the members. Official PDF.
  5. Provincial Assembly of the Punjab, historical Assembly publication, recording that Diwan Bahadur S. P. Singha was elected Speaker on 21 March 1946. Official PDF.
  6. Pakistan Post, Commemorative Postage Stamps 2016, entry dated 26 April 2016: “An Important Personality in the History of Pakistan — Dewan Bahadur S. P. Singha.” Pakistan Post record.
  7. Kalsoom Hanif and Muhammad Iqbal Chawla, “State, Religion and Religious Minorities in Pakistan: Remembering the Participation of Christians in Punjab Legislative Assembly 1947–55,” Pakistan Social Sciences Review, 2020.
  8. S. P. Singha’s grave inscription, Jail Road Christian Cemetery (Gora Qabristan), Lahore. The inscription records his birth as 26 April 1893 and death as 22 October 1949. The grave photographs reproduced in this article constitute a visual primary source.
آخری تحقیقی نوٹ: قائداعظم سے منسوب مکالمے، “محمد علی جناح ہمارے رہنما ہیں” کے قول، “پاکستان ایک ووٹ سے بنا” کے نعرے، دیوان بہادر کی اصل سند، ابتدائی سکول، اہلیہ کا مکمل نام اور خاندان کی بعد کی رہائش کے بارے میں مکمل بنیادی دستاویزات ابھی دستیاب نہیں۔ اس لیے ان امور کو قطعی سرکاری حقیقت کے بجائے محتاط انداز میں روایت یا مزید تحقیق کے محتاج دعوے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔