Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE
True

Pages

بریکنگ نیوز

latest

شہریوں کا پسرور میں اندرونِ شہر ون وے ٹریفک نظام نافذ کرنے کا مطالبہ

پسرور شہر کی اندرونی سڑکوں پر روز بروز بڑھتے ہوئے ٹریفک جام نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ تنگ سڑکوں پر دو طرفہ ٹریفک کی وجہ سے آئے روز...

پسرور شہر کی اندرونی سڑکوں پر روز بروز بڑھتے ہوئے ٹریفک جام نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ تنگ سڑکوں پر دو طرفہ ٹریفک کی وجہ سے آئے روز لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، جس سے نہ صرف بازاروں میں آمدورفت شدید متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام کو ذہنی کوفت اور وقت کے ضیاع کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اہلِ علاقہ نے بلدیہ پسرور اور ٹریفک پولیس سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ
کچہری موڑ سے پرانا اڈا لاریاں،
چوک پرانا اڈا سے چوک کھوکھراں تک
چوک پرانا اڈا سے شاہ ببن گیٹ تک
ان تمام راستوں کو فوری طور پر ون وے قرار دیا جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پسرور کی اندرونی سڑکیں پہلے ہی بہت تنگ ہیں، جہاں دو رویہ ٹریفک کو سنبھالنا عملی طور پر ناممکن ہو چکا ہے۔ ون وے نظام نافذ ہونے سے:
ٹریفک روانی بہتر ہوگی، بازار کشادہ ہوں گے
کاروبار اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے، جس سے شہریوں کو حقیقی ریلیف ملے گا
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:
شاہ ببن گیٹ → کم از کم 1 ٹریفک وارڈن
پرانا اڈا لاریاں → کم از کم 2
چوک کھوکھراں → کم از کم 1
کچہری موڑ → کم از کم 2
ڈسکہ موڑ → کم از کم 2
ستراہ موڑ → کم از کم 1
ہر وقت تعینات کیے جائیں تاکہ ٹریفک مسلسل رواں دواں رہے۔
اور شہر میں ٹریفک لائٹس بھی لگائی جائیں اور سپیڈ کیمرہ بھی تا کہ آئے روز تیز رفتاری کی وجہ سے حادثات میں جو اضافہ ہو رہا ہے ان میں کمی کی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ پسرور شہر کے لیے ایک رِنگ روڈ یا راؤنڈ اباؤٹ ناگزیر ہو چکا ہے، تاکہ شہر سے باہر جانے والی ٹریفک کو شہر کے اندر داخل ہونے سے پہلے ہی دوسرے شہروں کی سڑکوں سے جوڑ دیا جائے۔
یہ مطالبات ہماری طرف سے اپنا پسرور پیج پر گزشتہ پانچ سال سے مسلسل دہرائے جا رہے ہیں، مگر افسوس کہ آج تک کسی ذمہ دار کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ہمارے عوامی نمائندگان صرف نالیوں اور گلیوں کے چھوٹے منصوبوں پر واہ واہ سمیٹنے میں مصروف ہیں، جبکہ پسرور جیسے قدیم شہر کو دہائیوں سے کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ نہیں دیا گیا۔
جب نمائندگان شہر آتے ہیں تو چند پولیس اہلکار پہلے ہی ٹریفک کلیئر کر دیتے ہیں، اس لیے انہیں عوام کی اصل مشکلات کا اندازہ ہی نہیں ہو پاتا۔ مزید یہ کہ ان کے اردگرد موجود خوشامدی عناصر ہمیشہ “سب ٹھیک ہے” کی رپورٹس دے کر شہر کی تباہی میں خاموش کردار ادا کر رہے ہیں۔
اب عوام بھلے شاہ کی طرح ناچ ناچ کر پیر نہیں منا سکتی، ہم تو بس گزارشات کر سکتے ہیں۔
آج نہیں تو کل، اس مسئلے کا حل یہی ہے — ون وے نظام اور بڑے شہری منصوبے۔
اگر آج سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو کل حالات اس سے بھی بدتر ہوں گے۔ پسرور کسی عارضی بندوبست کا نہیں، دیرپا اور عملی حل کی ضرورت ہے۔