زمرہ: Economic History
کپاس (53) ۔ قمیض
یہ دنیا ہمہ وقت بدلتی حالت میں ہے۔ اسی کے ساتھ چلتے معیشت اور تجارت کے نظام بھی۔ جنگی کیپٹلزم نے گلوبلائزیشن کی تعمیر کی تھی۔ اس کا جغرافیائی مرکز لنکاشائر تھا جو اب نہیں رہا۔ غیرا...
کپاس (52) ۔ نہ ختم ہونے والا انقلاب
امریکہ اور برطانیہ میں کپاس کے علاقوں میں اب بدحالی ہے۔ جبکہ دسیوں لاکھ مزدور پاکستان، انڈیا، چین اور دوسرے ممالک میں ٹیکسٹائل ملوں کا رخ کرتے ہیں۔ دسیوں لاکھ کسان افریقہ، ایشیا او...
کپاس (51) ۔ سلطنت کا خاتمہ
یورپ کا کاٹن پر راج بڑی خاموشی سے ختم ہو گیا۔ یہ 1963 تھا۔ دسمبر کی سرد اور بارش والی صبح کو لیورپول میں کاٹن ایکسچینج بلڈنگ میں کچھ لوگ جمع تھے۔ یہ اس سلطنت کا ہیڈکوارٹر ہوا کرتا ...
کپاس (50) ۔ گاندھی کا چرخہ
ہندوستانی، مصری اور چینی صنعتکاروں کو اس بات کا احساس ہو رہا تھا کہ برٹش کالونیل حکومت ان کے مفادات کی حفاظت نہیں کر رہی۔ اس کے لئے ترجیح لنکاشائر کی صنعت ہے۔ یہ طبقہ کالونیل حکمرا...
کپاس (49) ۔ جاپانی صنعتکاری
“میں اپنے ملک کو یورپ اور امریکہ کے برابر لانا چاہتا ہوں۔ میں نے جتنی تاریخ اور جغرافیہ پڑھا ہے، اس سے یہ سمجھ آ چکی ہے کہ مغربی دنیا میں دولت، عسکری طاقت، تہذیب اور روشن خیالی کی...
کپاس (48) ۔ برِصغیر میں صنعتکاری
احمدآباد آج ساٹھ لاکھ کی آبادی کا شہر ہے۔ آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے یہاں پرانے ادارے تھے۔ صراف اور مہاجن کاربار پر حاوی تھے۔ اشیا کی جانوروں پر لاد کر کچے راستوں پر دوسرے علاقوں س...
کپاس (47) ۔ جرمن کالونی
نومبر 1900 کی طوفان صبح تھی جب نیویارک کی بندرگاہ سے جرمنی کے لئے بحری جہاز دو ہزار مسافر لے کر نکلا۔ اس میں چار مسافر جیمز کولووے، جان رابنسن، ایلن برکس اور شیپرڈ ہیرس تھے۔ یہ چار...
کپاس (46) ۔ روسی توسیع
روس کی دوراندیش سرکاری بیوروکریسی نے انیسویں صدی کے آغاز پر “سفید سونے” کی سپلائی محفوظ کرنے کی اہمیت کو بھانپ لیا تھا۔ اور تاجروں اور صنعتکاروں سے ملکر وسطی ایشیا کے خطے کو کپاس ...
کپاس (45) ۔ کامیابی کی کنجی
جاپانی وزارتِ زراعت کے ڈائریکٹر ساکو سونیکی کا تبادلہ 1902 میں چین سے کوریا کر دیا گیا تھا۔ جاپان کپاس کی بھاری مقدار درآمد ہندوستان سے درآمد کرتا تھا۔ ساکو کا کام کوریا میں اس ک...
کپاس (44) ۔ ٹیکنالوجی کی آمد
ہندوستان میں ایک قصبہ خام گاوٗں کے نام سے تھا جو اچھی کپاس کے لئے شہرت رکھتا تھا۔ انگریزوں کی آمد سے دہائیوں قبل سے یہاں سے کپاس کو بیل گاڑیوں پر مرزاپور لے جایا جاتا تھا۔ مرزاپور...
کپاس (43) ۔ غلامی کے بعد
جنگ بندی ہو چکی تھی۔ امریکہ سے غلامی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ ایک وقت میں چالیس لاکھ تک غلام تھے، آزاد ہو چکے تھے۔ آزادی کے اس جشن کے ساتھ سوال یہ تھا کہ اب کیا ہو گا۔ 1865 کے آخر ت...
کپاس (42) ۔ غلامی کا خاتمہ
امریکہ میں خانہ جنگی جاری تھی۔ اس نے کپاس کے نرخ بہت چڑھا دئے تھے۔ یہاں پر عثمانی وائسرائے محمد سعید پاشا نے موقع دیکھا۔ وہ ایک بہت بڑے جاگیردار تھے۔ انہوں نے اپنی زمینیں کپاس پیدا...








