Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

او آئی سی امتِ مسلمہ اور غزہ

او آئی سی امتِ مسلمہ اور غزہ یہ ہے وہ او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کہ جس کے ہم صبح و شام قصیدے پڑھتے ہیں۔ جس سے ہم نے امیدیں وابستہ کی ہو...

او آئی سی امتِ مسلمہ اور غزہ

یہ ہے وہ او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کہ جس کے ہم صبح و شام قصیدے پڑھتے ہیں۔ جس سے ہم نے امیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں کہ وہ امہ کے مسائل حل کرے گی، دو ارب سے زائد مسلمانوں کی نمائندگی کا سرٹیفکیٹ جس کے پاس ہے، امت پر جب بھی کوئی افتاد پڑتی ہے تو ہماری پہلی نظر اوآئی سی کی طرف اٹھتی ہے مگر او آئی سی نے ہمیشہ امت کو مایوس کیا۔ او آئی سی اور عرب لیگ جیسے فورم ملتِ اسلامیہ کی نمائندگی کے بجائے درحقیقت استعمار کی کٹھ پتلی بن چکے ہیں۔

او آئی سی ان 57 اسلامی ممالک کی نمائندگی کادعوے دار جو ایک زنجیر کی طرح آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان سے لے کر ایشیا و یورپ کی سرحد پر واقع ترکی تک اور مشرق وسطی کے عرب ممالک سے شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ممالک تک اسلامی ممالک کی سرحدیں باہم ملی ہوئی ہیں۔ دنیا میں مسلمانوں کی کل تعداد دو ارب سے بھی زائد ہے، جن کی اکثریت جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں آباد ہے۔ اکثر مسلم ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ دنیا میں عالمی سطح پر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تعداد 20 ہے، جن میں سے 12 اسلامی ممالک ہیں۔ مسلم ممالک کے تیل کی دولت کو دیکھ کر یہ مقولہ مشہور ہوگیا کہ جہاں مسلمان ہے وہاں تیل ہے۔

عسکری اعتبار سے دیکھا جائے توچالیس ممالک کی مشترکہ فوج کے علاوہ لاکھوں کی تعدادمیں دنیا کی بڑی فوج ہمارے پاس ہے عسکری وسائل کی بات کی جائے امریکا سب سے زیادہ فوجی طیاروں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ عام طور پر اس کے پاس 13 ہزار 300 فوجی طیارے ہیں۔ عرب دنیا میں مصر ایک ہزار 69 فوجی طیاروں کے ساتھ پہلے اور دنیا میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ سعودی عرب 897 فوجی طیاروں کے ساتھ عرب دنیا میں دوسرے اور دنیا میں 12ویں نمبر پر ہے۔ متحدہ عرب امارات 565 فوجی طیاروں کے ساتھ دنیا میں 20ویں اور عرب ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے۔

اس کے مقابلے میں یہودیوں کی دنیامیں کل آبادی دو کروڑ سے بھی کم ہے جس میں سے تقریباً 80 لاکھ یہودی اسرائیل میں ہیں اتنے ہی یہودی باقی دنیامیں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ تعداد مسلمانوں کی تعداد کا تقریباً ایک فیصد ہے، یعنی مسلمان تعداد میں یہودیوں سے ننانوے فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود 57 اسلامی ممالک میں سے صرف 13ممالک ایسے ہیں کہ جنھوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا باقی سب اسرائیل کے در پر سجدہ ریز ہو چکے ہیں غزہ کی جنگ نہ چھڑتی تو سعودی عرب بھی اس معاملے میں کافی حد تک آگے جا چکا تھا۔

گزشتہ ایک ماہ سے اسرائیل غزہ کے 23 لاکھ محصورین پرحملہ آور ہے، امریکہ سمیت تمام کفر یہ طاقتیں اسرائیل کی پشت پرکھڑی ہیں امریکہ، برطانیہ، فرانس سمیت دیگر شیطانی طاقتیں اس جنگ میں عملی طور پر شامل ہو چکی ہیں اسلحہ سے بھرے بحری بیڑے مسلم ممالک کی بندرگاہوں سے اسرائیل پہنچ رہے ہیں بم و بارود سے لیس جہاز مسلمان ممالک کی فضاؤں سے گزر کر اسرائیل میں اتر رہے ہیں اس سے بڑی ستم ظریفی کیا ہو گی کہ جن عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے وہ بھی انسانی ہمدردی کے نام پر اسرائیل میں امداد دے رہے ہیں۔ 22 عرب ممالک کی طرف سے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف دی جانے والی قرار داد کو امریکا اور برطانیہ آسانی سے مسترد کر دیتے ہیں، مگر عرب ممالک صرف خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہتے ہیں۔اس سب کے باوجود اہل غزہ کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہیں آئی جواپنے بچے کٹواکربھی میدان میں کھڑے ہیں جو اسرائیل کی جدید ترین جنگی مشینوں اور امریکا یورپ کی سیاسی، معاشی، سفارتی، ابلاغی اور عسکری سرپرستی اور امداد کے باوجود ڈٹے ہوئے ہیں۔

ایسے میں ایک ماہ بعدہماری اوآئی سی نے ایک اجلاس منعقد کیا جس سے امت مسلمہ کوامیدتھی کہ ایسے اقدامات سامنے آئیں گے کہ جس سے مسلمانوں کے زخموں پر مرہم کا ساماں ہو گا اسرائیلی جارحیت کے خلاف کوئی مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جائے گا مگر یہ اجلاس بیان "مذمت”مطالبے اور "درخواست” سے آگے نہ بڑھ سکا۔ او آئی سی کے اعلامیہ سے امت اسلامیہ کو یہ پیغام ملتا ہے کہ یہ ادارے مسلم امہ اور ہمارے مقدسات کے دفاع سے قاصر ہیں۔ نیز ہمارے عوام امریکہ و یہودیوں کے سامنے ایک نوالہ تر ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے شہر ریاض میں غزہ کے حوالے سے منعقد ہونے والے تاریخی اجلاس کے اختتام پر اسلامی تعاون تنظیم کے 57 رکن ممالک کے رہنما اسرائیل کیخلاف کسی عملی اقدام پر متفق نہیں ہو سکے۔ اگرچہ کہ اجلاس میں اسرائیل کیخلاف مختلف نوعیت کے اقدامات کے لیے ہر قسم کی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ ایران کی طرف سے پیش کی جانے والی سخت ترین تجویز، جس میں تمام رکن ممالک سے اسرائیلی فوج کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے کہا گیا تھا، سے لیکر شام کے صدر بشار الاسد کی طرف سے پیش کی جانے والی تجویز جس میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا، ان میں شامل تھیں۔

یہ اجلاس، جسے آخری لمحات میں عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے رہنماؤں کے مشترکہ اجلاس کے طور پر متعارف کرایا گیا، ان مسلم اور عرب ممالک کے درمیان مفادات کے گہرے ٹکرا ؤکی واضح عکاسی تھی جو عام طور پر دنیا کی تمام مسلم آبادی کی نمائندہ تنظیم کے طور پر خود کو متحد دکھاتے تو ہیں لیکن عملی اقدمات کے وقت ہر ایک کی الگ الگ ترجیحات ہوتی ہیں۔

عرب سفارت کاروں نے جو کچھ میڈیا کو بتایا ہے اس کے مطابق لبنان اور الجزائر نے عرب لیگ میں اسرائیل کو تیل کی فراہمی روک دینے کی تجویز دی تھی جس کی متحدہ عرب امارات اور بحرین نے مخالفت کی۔ کچھ ممالک اتنا آگے جانے سے گریزاں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کانفرنس کے حتمی اعلامیے میں کم سے کم اہداف پر ہی توجہ مرکوز رہی، جن پر سب کا اتفاق ہو۔ ان مطالبات میں جنگ بندی، اسرائیل کی مذمت اور فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ شامل ہیں۔ اور یوں ریاض میں ہونے والا یہ اسلامی ممالک کا اجلاس اپنی تاریخی نوعیت کے باوجود درحقیقت ایک سنگین اور گہری تقسیم کا مکمل نظارہ بن کر رہ گیا۔

اسرائیلی فوج غزہ میں کس قدر ظلم و درندگی کا مظاہرہ کر رہی ہے پوری پوری آبادیوں پر اور کئی کئی منزلہ عمارتوں پر بم برسا کر زمین بوس کر رہی ہے، ہزاروں لوگ اس درندگی سے منٹوں میں لقمہ اجل بن گئے، معصوم بچے اور بچیاں پھول جیسے بدن روز منوں ملبہ میں دب کر اپنے رب سے جا ملے، ماؤں، بیٹیوں اور پھول سے معصوم بچوں پر اسرائیلیوں نے ظلم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر ہمارے ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا، کیا ہم اسلام کے بد ترین دشمنوں کے اتحادی بن گئے ہیں؟ وہ کلمہ گو مسلمانوں کی بستیاں کی بستیاں اجاڑ دیں اور پوری دنیا کے مسلم حکمراں جنت کے حقدار کا سرٹیفکیٹ اپنے گلے میں ڈالے تماشا دیکھ رہے ہیں، او آئی سی اور عرب لیگ میں شامل رہنما امریکہ، برطانیہ کے رہنماؤں کی طرح حماس یا غزہ کے مظلوموں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوسکتے،اسرائیل کے خلاف لڑنہیں سکتے اپنی فوج فلسطین بھیج نہیں سکتے تو کم از کم اتنی غیرت کا مظاہرہ کرتے کہ اسرائیل کو گولہ بارود کی فراہمی کے لیے خلیج کے امریکی فوجی اڈوں اورفضاؤں کے استعمال کو روک سکتے تھے، اسرائیل کو تیل کی فراہمی روک لیتے،کچھ عرصے کے لیے سفارتی اور اقتصادی تعلقات تو منقطع کر دیتے، شاید اس سے ان کے زخموں پرکچھ تو مرہم مل جاتا۔

خونِ فلسطینیوں سے کھیلے جانے والے ظلم و درندگی سے آج چنگیز خان کا ظلم بھی شرما تا ہے، اگر مسلم ممالک کے حکمرانوں کے دل میں ذرا بھی خوف خدا ہوتا تو یوں یہ خاموش تماشائی نہ بنے ہوتے، اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی لا تعداد شہادتوں پر اور ان کے جسموں سے بہنے والے پاکیزہ لہو اور معصوم بچوں کی کرب ناک صدائیں سنائی دیتیں جو رو رو کر ہمیں پکارتی ہیں، کہ مسلم حکمرانوں ہمیں ان صہیونیوں کے ظلم سے بچا لو کیا ان بچوں کی سسکیوں اور آہوں پر لبیک کہنے والا کوئی ہے؟ اگر نہیں تو یہ امت مسلمہ کے حکمراں نہیں بلکہ امت مسلمہ کے مجرم ہیں۔

The post او آئی سی امتِ مسلمہ اور غزہ appeared first on Naibaat.